قید‘ قیدی اور شہ پارے

نتاشا ملک کی جانب سے پیش کی جانیوالی نمائش ’دی ان فورگوٹن مون: لیبرٹنگ آرٹ فرام گوانتانامو بے‘ ایک فنکارانہ کوشش ہے جو کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک ٹیکسی ڈرائیور ایم ربانی کی اکیس سالہ المناک قید میں بسر کی گئی زندگی پر مرکوز ہے‘ایم ربانی کو امریکہ پر ہوئے ’نائن الیون حملوں‘ سے وابستگی کے جھوٹے الزام پر گوانتاناموبے جیل میں قید رکھا گیا تھا‘ اِس تصویری نمائش میں چند ایسے فن پاروں کی نمائش کی گئی جو ایم ربانی نے اُس وقت تخلیق کئے تھے جب وہ زیرِ حراست تھے‘اُن پر تشدد کیا جارہا تھا؛ اس شو میں مزید دس فنکاروں کے فن پارے بھی شامل کئے گئے جنہوں نے ایم ربانی کی بنائی ہوئی پینٹنگز جو اُس وقت سنسر کی گئی تھیں انہیں دوبارہ تخلیق کیا‘اس کام کیلئے انہوں نے ایم ربانی کے وکیل کی طرف سے لکھے گئے ان پینٹنگز کے تفصیلی نوٹس سے مدد لی‘ وہ فن پارے اب بھی امریکی حکومت کی تحویل میں ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ مذکورہ پینٹنگز امریکہ کی قومی سلامتی کیلئے ’براہِ راست خطرہ‘ ہیں‘بقول ایم ربانی ’کیونکہ وہ یہ نہیں چاہتے کہ دنیا کو معلوم ہو کہ امریکہ میں بنیادی انسانیت کا فقدان ہے‘آرٹ شو اپنی کہانی سنانے اور ناقابلِ فراموش نقوش چھوڑنے کا عمل ہے‘ظاہری طور پر تو یہ ایم ربانی کی ذاتی کہانی پر مشتمل نمائش تھی لیکن مجموعی طور پر اس میں حکومتی ظلم جبر اور وحشیانہ اقدامات‘ گوانتاناموبے کی زندگی اور انصاف کے حوالے سے نظریات‘ بے گناہی اور ’ہمیشہ کے قیدی‘ (امریکہ کی ٹارچر پالیسی جہاں قیدیوں کو بغیر کسی الزام کے غیر معینہ مدت تک قید کیا جاتا ہے) جیسے عوامل کو اُجاگر کیا گیا‘دس ستمبر دوہزاردو کو ایم ربانی کی پوری زندگی ہمیشہ کیلئے تبدیل ہوگئی انہیں ان کی اپنی ہی حکومت نے پانچ ہزار ڈالر کے عوض امریکہ کے حوالے کیا بعد میں کہا گیا کہ غلطی سے انہیں مطلوب دہشت گرد حسن گل سمجھ لیا گیا تھا لیکن ایم ربانی کا دعویٰ ہے کہ دونوں حکومتیں شروع سے ہی واضح طور پر جانتی تھیں کہ وہ مطلوب حسن گل نہیں ہے اِس آرٹ نمائش کا اہتمام اس عزم کے ساتھ کیا گیا کہ اس میں حصہ لینے والے دیگر فنکاروں کی پینٹنگز سے حاصل ہونیوالی آمدنی کا سو فیصد حصہ ایم ربانی کو دیا جائیگا اور امید ہے کہ جلد ہی یہ رقم انہیں مل جائیگی‘آرٹ شو کی کیوریٹر کے مطابق قرون وسطیٰ کی طرز کے تشدد کی تکنیکوں سے لے کر بیگناہ شخص کی المناک آپ بیتی منظر عام پر آنے تک‘ ایم ربانی کے ساتھ ہونیوالی زیادتی کا پیمانہ سمجھ سے بالاتر ہے اور اِسے جتنا زیادہ مطالعہ کیا جائے اُتنا ہی افسوس ہوتا ہے‘ دوسری جانب ایم ربانی کی حالت یہ ہے کہ وہ اڑتالیس گھنٹوں میں بمشکل 2 گھنٹے سو پاتے ہیں  وہ بھی کھڑے کھڑے سو سکتے ہیں‘بستر پر بالکل نہیں سو سکتے کیونکہ جیسے ہی ان کا سر تکیے پر ٹکتا ہے‘ وہ بیدار ہوجاتے ہیں وہ اکثر نیند میں چہل قدمی بھی کرتے ہیں کیونکہ یہ سرگرمی انہیں سکون اور آرام فراہم کرتی ہے ایم ربانی نے دوہزارگیارہ میں مصوری شروع کی تھی لیکن انہیں اپنی پہچان (پہلا کینوس) 2016ء میں ملی‘قید کے دوران وہ کسی بھی چیز جیسے کپڑے (ڈینم)کے ٹکڑے‘ ساتھی قیدیوں کے یونیفارم  سے حاصل کردہ کپڑے اور قیدخانے کے درودیوار پر فن پارے تخلیق کرتے تھے‘ جیل میں پینٹ کے استعمال کی اجازت سے پہلے وہ کافی‘ چائے پاؤڈر اور سالن (گریوی) کو پینٹنگز استعمال کرتے تھے وہ کاغذ‘ ٹشو رولز اور جیل کی کوٹھری کی دیواروں پر بھی پینٹ کرتے رہے اور کبھی کبھار بدلہ لینے اور جیل کے محافظوں کو ناراض کرنے کیلئے وہ اپنی مصوری میں انسانی فضلے کا استعمال بھی کرتے تھے! ایم ربانی تمام تر صلاحیتوں کا سہرا اپنے بلاک سے تعلق رکھنے والے ایک یمنی قیدی صابری القریشی کو دیتے ہیں جسے وہ اپنا ’استاد‘ کہتے ہیں۔ یہ دلچسپ ہے کہ یمنی آرٹ اور ایم ربانی کے انداز میں کچھ مماثلتیں پائی جاتی ہیں جیسے پس منظر میں شہر کے مناظر کی تکرار اور کسی موضوع کو پینٹ کرنے کا طریقہ۔ اگرچہ ایم ربانی نے ابتدائی طور پر پیسٹلز کو اپنے میڈیم کے طور پر استعمال کیا کیونکہ صابری بھی یہی استعمال کیا کرتے تھے لیکن کافی تجربہ کے بعد انہوں نے بعد میں ایکریلیکس کو تسلی بخش پایا اور اب یہ ان کی بنیادی ترجیح ہے۔  (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: زہرا جبین۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)