قومی پیداوار: پائیدار ترقی


کسی بھی ملک میں تیار ہونے والی مصنوعات (برانڈز) اُس کے ہاں ہونے والی معاشی ترقی کی پائیداری کے لئے ضروری اُور اہم ہوتے ہیں۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو دنیا کے سب سے مہنگے کارپوریٹ برانڈ ’ایپل‘ کی مالیت کا تخمینہ 880 ارب ڈالر ہے جبکہ اِس امریکی برانڈ کے اثاثہ جات کی مالیت حیرت انگیز طور پر تیس کھرب ڈالر ہے۔ کسی ملک کا برانڈ اُس کی تجارت‘ سیاحت‘ غیر ملکی سرمایہ کاری اور شاید غیر ملکی امداد و بین الاقوامی اثر و رسوخ پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کی سافٹ پاور‘ جو 1960ء کی دہائی میں اپنے عروج پر تھی‘ شاید اب کم ترین سطح پر آ گئی ہے‘ جس کا اندازہ معروف برانڈ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار سے لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو درپیش متعدد چیلنجز کے باوجود اِسے اپنے قومی برانڈ کی بحالی میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے بغیر غیر ملکی سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ مشکل ہوگا۔“ میکرو اکنامک عدم توازن‘ انسانی ترقی کی خوفناک حالت‘ سلامتی کی غیریقینی صورتحال‘ ناقص گورننس‘ تعلیم کے کم معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے اُور اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستان کے مسائل کو حل کرنے کی دعویدار جمہوریت کی حالت زار پر بین الاقوامی سطح پر بھی سوالات اٹھائے جائیں گے اور خاص طور پر متعصبانہ میڈیا پاکستان کے معاشی مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرے گا۔ اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) کا کہنا ہے کہ پاکستان میں طرز حکومت ایک ایسے ہائبرڈ دور میں داخل ہو چکی ہے جس سے وابستہ عام آدمی کی توقعات پوری نہیں ہو رہیں اگرچہ اِس فہرست میں شامل بنیادی اصولوں کو بہتر بنانے کے لئے محنت کی ضرورت ہے لیکن اگر حکومت کی جانب سے برانڈز بحالی کی کوشش کی جائے تو بنیادی اصولوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہئے کہ موجودہ حالات میں کوئی بھی ملک دنیا کے ساتھ باہمی فائدہ مند روابط قائم کئے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ برآمدات‘ ایف ڈی آئی‘ سیاحت‘ بین الاقوامی سرمائے تک رسائی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے سازگار شرائط کے بغیر معیشت میں بہتری نہیں لائی جا سکتی۔ پاکستان کی پیداواری ترقی کے لئے ہمسایہ ممالک کے تجربات اُور اثرورسوخ سے فائدہ اُٹھانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ منافع بخش شراکت داریاں قائم کی جا سکیں۔ دور دراز ممالک سے تجارت کا فروغ اپنی جگہ اہم لیکن اگر ہمسایہ ممالک سے تجارتی تعلقات بحال کئے جائیں تو اِس سے زیادہ فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔ مثال موجود ہے کہ کس طرح روس اور ایران نے اپنے خلاف وسیع پیمانے پر عالمی اقتصادیاں پابندیاں عائد ہونے کے باوجود بھی بھارت کے ساتھ منافع بخش تجارتی تعاون برقرار رکھا ہوا ہے۔ اِسی طرح امریکہ کی بحر ہند و بحرالکاہل کی حکمت عملی کا حصہ ہونے کے باوجود بھارت نے چین کے ساتھ بھی وسیع پیمانے پر اقتصادی روابط رکھے ہوئے ہیں۔ شطرنج کے عالمی بورڈ پر بھارت کا جغرافیہ‘ آبادی اُور اِس کی ترقی کے اشاریئے اہم عوامل ہوسکتے ہیں لیکن پاکستان بھی کسی طرح کم نہیں اُور اگر قومی پیداواری ترقی پر توجہ دی جائے تو اِس کے خاطرخواہ بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ قومی برانڈ کی بحالی اقتصادی استحکام اور ترقی کے لئے اہم ہے تو سوال یہ ہے کہ اِسے کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے؟ اگرچہ سافٹ پاور کی تعمیر کے بہترین طریقوں کے بارے میں بہت سارے لٹریچر دستیاب ہیں لیکن پاکستان کی سافٹ پاور کو دوبارہ متحرک کرنے کی کلید یہ ہوگی کہ ہم خارجہ پالیسی کے دائرے میں دنیا کے سامنے خود کو کس طرح پیش کرتے ہیں اس میں اسٹریٹجک تبدیلی کیا لائی جاتی ہے۔ پاکستان مسلسل اپنے آپ کو دانستہ یا نادانستہ طور پر ایک ایسی ریاست کے طور پر پیش کر رہا ہے جس کے وجود کو خطرات لاحق ہیں۔ ہمیں یہ بیانیہ تبدیل کر کے دنیا کو باور کرانا ہوگا کہ پاکستان خطے کے دیگر ممالک کی طرح یا اُن سے زیادہ پرامن ملک ہے اُور یہاں کی افرادی قوت بھی یکساں ذہین و محنت کش ہے تاکہ بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی جانب متوجہ کیا جا سکے۔ بیک وقت سیکورٹی ریاست کسی بھی طرح پُرکشش کاروباری مرکز نہیں بن سکتی کیونکہ کاروباری افراد سرمایہ کاری یا تجارت کے لئے محفوظ ممالک کی تلاش کرتے ہیں۔ پاکستان کو چین کی معاشی و تجارتی ترقی کا مطالعہ کرنا چاہئے کہ کس طرح ایک ہمسایہ ملک کی قیادت نے اسے خطے میں درپیش خطرات سے نمٹنے اُور قومی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے میں معاونت فراہم کی۔